نئی دہلی ، 14؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )اڑیسہ میں حالیہ پنچایتی انتخابات میں ملی کامیابی اور حکمراں بی جے ڈی کے اندر چل رہے گھمسان کے درمیان آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ہفتے کے روز سے بھونیشور میں بی جے پی قومی مجلس عاملہ کادوروزہ اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس میٹنگ میں شامل ہوں گے۔اس کے تحت کل دو بجے ایئرپورٹ سے قومی مجلس عاملہ کے اجلاس تک ان کے شاندار استقبال کا پروگرام ہے، وہ شام پانچ بجے جنتا میدان پہنچیں گے، یہ دو روزہ اجلاس جنتا میدان پر ہو گا ۔اس سلسلے میں جمعہ کو وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جس طرح 2014میں وزیر اعظم مودی کو عوامی حمایت ملی تھی ، 2017آتے آتے اس بے پناہ مقبولیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس کو ایک نئی شکل بھی ملی ہے۔2019میں ملک اور اڑیسہ میں انتخابات ہونے والے ہیں، ہماری دو طرفہ پالیسی ہے،حکومت کے ذریعے ملک کی توقعات کو پورا کرنا اور ان کو پورا کرنے کے لیے کامیاب تنظیم بنانا۔انہوں نے کہا کہ مودی جی کے غریبوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی لیبارٹری اڑیسہ ہے ، ہم اڑیسہ میں تیسرے نمبر کی پارٹی ہیں،ہماری کوشش تھی دوسرے نمبر کی پارٹی بننا۔اور ایسا ہوا، ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں، 2019تک پارٹی کو اقتدار میں لانا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی جی کی کریڈبلٹی انڈیکس سب سے زیادہ اڑیسہ میں ہے، جن کا بی جے پی کی پالیسیوں، نظریات اور وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں پر اعتمادہے اورجن کی صاف شبیہ ہے ان کا بی جے پی میں خیر مقدم ہے ۔ہم ایسے سب لوگوں کو پارٹی میں شامل کریں گے، عوامی حمایت میں اضافہ ہو ، طبی وجوہات کی وجہ سے سشما سوراج قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں حصہ نہیں لیں گی۔قابل ذکر ہے کہ دھرمیندر پردھان کے اس بیان کو بی جے ڈی کے اندر چل رہے اختلاف میں سیندھ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سے پہلے جمعہ کو بی جے پی صدر امت شاہ بھونیشور پہنچ رہے ہیں۔بی جے پی جنرل سکریٹریوں کی میٹنگ جمعہ کی شام کو ہوگی۔اس کی صدارت امت شاہ کریں گے۔اس میں دو دروزہ مجلس عاملہ کے اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں سیاسی اور اقتصادی تجاویز کے علاوہ غریبوں کی فلاح و بہبود اور بی پی ایل پر بھی تجاویز آنے کا امکان ہے۔